عادت ہی بنا لی ہے

عادت ہی بنا لی ہے

اس شہر کے لوگوں نے
انداز بدل لینا
آواز بدل لینا
دنیا کی محبت میں
اطوار بدل لینا
موسم جو نیا آئے
رفتار بدل لینا
اغیار وہی رکھنا
احباب بدل لینا
عادت ہی بنا لی ہے
اس شہر کے لوگوں نے
رستے میں اگر ملنا
نظروں کو جھکا لینا
آواز اگر دو تو کترا کے نکل لینا
ہر اک سے جدا رہنا
ہر اک سے خفا رہنا
ہر اک کا گلہ کرنا
جاتے ہوئے راہی کو
منزل کا پتہ دے کر
رستے میں‌رلا دی

انہی کو راہِ طلب خار دار دی گئی ہے

انہی کو راہِ طلب خار دار دی گئی ہے
وہ جن کو مملکتِ اعتبار دی گئی ہے

ذرا سی دیر تو سو لیں یہ اہلِِ دل کہ انہیں
بہت طویل شبِ انتظار دی گئی ہے

گئے دنوں میں ہمارا تھا قصرِ خوش آثار
اب اپنے نام کی تختی اتار دی گئی ہے

لہو لہان اجالوں کا دن ڈھلا آخر
سیاہ کرب زدہ شب گزار دی گئی ہے

ہمارے پاس تھا کیا خواب وہ تو ٹوٹ گیا
اک اور چیز تھی جان’تجھ پر وار دی گئی ہے

ہماری دشت نوردی کو اک فسانے میں
بشارتِ شجرِ سایہ دار دی گئی ہے

وہ جو اک شرط تھی وحشت

وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اٹھا دی گئی کیا
میری بستی کسی صحرا میں بسا دی گئی کیا

وہی لہجہ ہے مگر یار تیرے لفظوں میں
پہلے اک آگ سی جلتی تھی،بجھا دی گئی کیا

جو بڑھی تھی کہ کہیں مجھ کو بہا کر لے جائے
میں یہیں ہوں تو وہی موج بہا دی گئی کیا

پاوں میں خاک کی زنجیر بھلی لگنے لگی
پھر میری قید کی معیاد بڑھا دی گئی کیا

دیر سے پہنچے ہیں ہم دور سے آئے ہوئے لوگ
شہر خاموش ہے سب خاک اڑا دی گئی کیا

تنگ آ چکے ہيں کشمکش زندگی سے ہم

‫تنگ آ چکے ہيں کشمکش زندگی سے ہم‬

‫ٹھکرا نہ ديں جہاں کو کہيں بے دلی سے ہم‬

‫مايوسئ مآل محبت نہ پوچھئے‬

‫اپنوں سے پيش آئے ہيں بيگانگی سے ہم‬

‫لو آج ہم نے توڑ ديا رشتۂ اميد‬

‫لو اب کبھی گلہ نہ کريں گے کسی سے ہم‬

‫ابھريں گے ايک بار ابھی دل کے ولولے‬

‫گودب گئے ہيں بار غم زندگی سے ہم‬

‫گر زندگی ميں مل گئے پھر اتفاق سے‬

‫پوچھيں گے اپنا حال تری بے بسی سے ہم‬

‫الله رے فريب مشيت کہ آج تک‬

‫دنيا کے ظلم سہتے رہے خامشی سے ہم

غزل

غزل 
 
آگئی یاد شام ڈھلتے ہی
بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی
 
کُھل گئے شہرِ غم کے دروازے
اک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی
 
کون تھا تُو کہ پھر نہ دیکھا تُجھے
مِٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی
 
خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے
ماہِ شب تاب کے نکلتے ہی
 
تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے
عکسِ دیوار کے بدلتے ہی
 
خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میں
چڑھ گیا زہر گل مسلتے ہی
 
منیر نیازی

دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے

دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے

یادِ جاناں سے کوہئ شام نہ خالی جائے

رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں

اب کسی شہر کی بنیاد نہ ڈالی جائے

مصحفِ رُخ ہے کسی کا کہ بیاضِ حافظ

ایسے چہرے سے کبھی فال نکالی جائے

وہ مروّت سے ملاِ ہے تو جھکا دوں گردن

میرےدشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے

بے نوا شہر کا سایہ ہےمرے دل پہ فراز

کس طرح سے مری آشفتہ خیالی جا ئے

احمد فراز